The importance of morality in Islamic society اسلامی معاشرے میں اخلاق کی اہمیت

The importance of morality

اخلاق کیا ہے؟

’’اخلاق‘‘ تعلیمات اسلام کا ایک اہم عنصر ہے۔ اسلام کی بنیاد اخلاق حسنہ پر ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے قرآن مجید نے فرمایا:

وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِيْم.

(القلم، 4: 86)

’’بلاشبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عظیم الشان اخلاق کریمہ کے حامل ہیں‘‘۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا:

انما بعثت لاتمم حسن الاخلاق.

(مالک، الموطا، کتاب حسن اخلاق، باب ماجاء فی حسن الخلق، ج2، ص409)

’’میں حسن اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہوں‘‘۔

حسن اخلاق کی اہمیت کا اندازہ اس حدیث پاک سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ حضرت ابولدرداء سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

ما من شئ اثقل فی ميزان المومن يوم القيامه من حسن الخلق.

(جامع ترمذي، کتاب ابرالصله، باب ماجاء في حسن الخلق، 2:۱2، رقم2002)

’’کوئی چیز جو قیامت والے دن مومن کے حساب کے ترازو میں رکھی جائے گی، حسن اخلاق سے زیادہ بھاری نہیں ہوگی‘‘۔

امام غزالی اخلاق کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

فالخلق عبارة عن هيئة في النفس راسخة عنها تصدرالا فعال بسهولة ويسر من غير حاجة الي فکر وروية فان کانت الهئية بحيث تصدر عنها الافعال الجميلة المحمودة عقلا و شرعا سميت تلک الهئية خلقا حسنا وان کان الصادر عنها الافعال القبيحة سميت الهئية التي هي المصدر خلقا سئيا.

’’خلق نفس کی اس ہیئت راسخہ کا نام ہے جس سے تمام افعال بلاتکلیف صادر ہوں گے اگر یہ افعال عقلاً یا شرعاً عمدہ اور قابل تعریف ہوں تو اس ہیت کو خلق نیک اور اگر برے اور قابل مذمت ہوں تو اس ہیت کو خلق بد کہتے ہیں‘‘۔

(الغزالی، احياء العلوم الدين، 3:۵2)

حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ ’’اللہ کے بندوں میں اللہ کا سب سے پیارا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔‘‘

اخلاق ’’خلق‘‘ کی جمع ہے، جس کے معنیٰ خصلت، عادت اور طبیعت کے ہیں۔ اصطلاح میں اخلاق سے مراد وہ خصائل و عادات ہیں جو انسان سے روز مرہ اور مسلسل سرزد ہوتے رہتے ہیں اور یہی عادات و خصائل رفتہ رفتہ انسانی طبیعت کا جزو بن کر رہ جاتے ہیں جسے انسان دوسرے کے لیے تمثیل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اگر یہ عادات اچھی ہوں تو ’’اخلاق حسنہ‘‘ اور اگر بُری ہوں تو ’’اخلاق سیٔہ‘‘ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔

اسلام ایک عالم گیر مذہب ہے اور تمام بنی نوع انسان کی فلاح اور کامرانی کا علم بردار ہے ۔ یہ زندگی کے ہر اصول پر انسان کی راہ نمائی کرتا ہے۔ اسلام کے زرّیں اصولوں میں اخلاق کو سر فہرست رکھا گیا ہے۔ انسانی زندگی میں معاشرے کا قیام اس کی فطرت کا تقاضا ہے۔ دوسرے لفظوں میں انسان دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنے اور زندگی بسر کرنے پر فطرتاً مجبور ہے۔ اسلام میں اخلاق سے مراد وہ ’’اخلاق حسنہ‘‘ ہیں جو بنی نوع انسان کی فلاح اور اصلاح کے لیے انسانیت کو عطا کیے گئے۔ دنیا میں انسان کی اولین حیثیت ایک فرد کی سی ہے اور افراد کے مجموعے سے معاشرہ تکمیل پاتا ہے۔ اگر دنیا میں موجود تمام انسان اپنی اصلاح کرلیں، یعنی اسلامی تعلیمات کے عین مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال لیں تو وہ معاشرہ یقیناً درست اور صالح کہلائے گا،یا یوں کہہ لیجیے کہ ایک مثالی اسلامی معاشرہ کہلائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام فرد کی اصلاح کے لیے اخلاق حسنہ پر زور دیتا ہے۔قرآن حکیم میں بیشتر مقامات پر اخلاق کا درس دیا گیا ہے جو اس قدر حکیمانہ اور فلسفیانہ ہے جو دنیا کے کسی مذہبی کتاب میں نہیں ملتا۔ چند آیات کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیے۔

’’اور جب تم کو کوئی دعا دے تو تم اس سے بہتر لفظوں سے دعا دوبے شک خدا ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔‘‘ (سورہ النساء آیت 86)
مشاورت اور مصالحت کے بارے میں فرمایا ’’ان لوگوں کی بہت سی مشورتیں اچھی نہیں۔ ہاں جو خیرات یا نیک بات یا لوگوں میں صلح کرنے کو کہے اور جو ایسے کام کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کرے گا تو ہم اس کو بڑا ثواب دیں گے۔‘‘ (سورہ النساء آیت 114)

ملک میں سیاست اور مملکت سے ایفائے عہد برقرار رکھنے کے لیے فرمایا ’’اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا اور خدا سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں مانگتے رہنا کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے۔‘‘ (سورہ الاعراف آیت 56)

کفار کی مال دولت سے حرص نہ کرنے اور مومنوں کی خاطر مدارت کے لیے حکم فرمایا ’’اور ہم نے کفار کی کئی جماعتوں کو جو متمتع کیا ہے تم ان کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا اور نہ ان کے حال پر تاسف کرنا اور مومنوں سے خاطر تواضع سے پیش آنا۔‘‘ (سورہ الحجر ،آیت88)

کسی کو ایذا یا تکلیف نہ دینے کے حوالے سے فرمایا : ’’ اگر تم ان کو تکلیف پہنچانا چاہو تو اتنی ہی دو جتنی تکلیف تمہیں ان سے پہنچی ہو اور اگر صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہت اچھا ہے۔‘‘ ( سورہ النحل، آیت 126)

رشتے داروں محتاجوں اور مسافروں کے حوالے سے حکم دیا : ’’اور رشتے داروں اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو۔‘‘ سلسلۂ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے فضول خرچی سے بڑے سخت الفاظ میں اجتناب برتنے کو کہا کہ ’’ فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا نا شکرا ہے ۔‘‘ وہ لوگ جو مستحقین کی مدد کرنے کے قابل نہ ہوں تو اُن کے بارے میں فرمایا: ’’اگر تم اپنے پروردگار کی رحمت (یعنی فراخ دستی ) کے انتظار میں جس کی تمہیں امید ہو ان (مستحقین) کی طرف توجہ نہ کر سکو تو ان سے نرمی سے بات کہہ دیا کرو۔‘‘ بخل اور اسراف سے بچنے کا حکم دیا: ’’اور اپنے ہاتھ کو نہ تو گردن سے بندھا ہوا کرلو (کہ کسی کو کچھ دو ہی نہ) اور نہ بالکل کھول ہی دو کہ سبھی کچھ دے ڈالو اور (انجام ) یہ ہو کہ ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ جائو۔‘‘ (سورہ بنی اسرائیل آیات 26 تا 29)

ناپ تول میں کمی بھی ایک بہت بڑی معاشرتی بُرائی ہے جس سے بچنے کا حکم دیا اور فرمایا: ’’اور جب کوئی چیز ناپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو اور جب تول کردو تو ترازو سیدھا رکھا کرو یہ بہت اچھی بات اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت بہتر ہے۔‘‘ دوسروں کی ٹوہ میں لگا رہنے سے منع فرمایا۔ ترجمہ: ’’اور جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ کہ کان اور آنکھ اور دل ان سب سے باز پرس ہوگی۔‘‘ آگے چل کر انسان کے غرور اور تکبر کو خاک میں ملاتے ہوئے فرمایا ’’اور زمین پر اکٹر کر نہ چل کہ تو زمین کو پھاڑ تو نہیں ڈالے گا اور نہ لمبا ہو کر پہاڑ کی چوٹی تک پہنچ جائے گا ان سب عادتوں کی برائی تیرے پروردگار کے نزدیک بہت نا پسند ہے۔‘‘ (سورہ بنی اسرائیل آیات35 تا 38)

مومنین کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے (جاہلانہ گفتگو ) کرتے ہیں تو وہ انہیں سلام کرتے ہیں۔‘‘ (سورۃ الفرقان آیت 63)

مذاق اڑانے سے منع فرمایا: ترجمہ ’’ مومنو! کوئی قوم کسی قوم کا تمسخر نہ اڑائے ممکن ہے کہ وہ لوگ ان سے بہتر ہوں اورنہ عورتیں عورتوں سے تمسخر (کریں) ممکن ہے کہ وہ ان سے اچھی ہوں اور اپنے مومن بھائی کو عیب نہ لگاؤ اور نہ ایک دوسرے کا بُرا نام رکھو ایمان لانے کے بعد برا نام رکھنا گنا ہ ہے اور جو توبہ نہ کریں وہ ظالم ہیں ۔‘‘ (سورہ الحجرات آیت11)

مومنین کو آداب مجلس سکھاتے ہوئے اور ان کے انجام کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا: ’’مومنو جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں کھل کر بیٹھو تو کھل بیٹھا کرو خدا تمہیں کشادگی بخشے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہوا کرو جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے خدا ان کے درجے بلند کرے گا اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے ۔‘‘ (سورہ المجادلہ آیت 11)

اس کے بعد حکمت کی ان باتوں کی مزید تشریح کی گئی ہے جیسے خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، والدین کے ساتھ مہربانی سے پیش آنا، نیچی آواز میں بات کرنا۔ ان آیات کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ قرآن کی اصطلاح میں ان فطری امور خیر کو بھی جن کا خیر ہونا فطرتاً تمام قوموں اور مذاہب میں مسلم ہے اور جن کو دوسرے معنی میں اخلاق کہہ سکتے ہیں، ’’حکمت‘‘ کہا گیا ہے۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ حضور ؐ کی شریعت میں اخلاق کا مرتبہ حکمت کے لفظ سے تعبیر ہوا ہے۔

علامہ شبلی نعمانی فرماتے ہیں کہ عقائد اور عبادات کے بعد تعلیمات نبویؐ کا تیسرا باب اخلاق ہے۔ اخلاق سے مقصود باہم بندوں کے حقوق و فرائض کے وہ تعلقات ہیں جن کو ادا کرنا ہر انسان کے لیے ضروری ہے۔ انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو اس کا ہر شے سے تھوڑا بہت تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔ اس تعلق کے فرض کو بحسن خوبی انجام دینا اخلاق ہے۔ اس کے اپنے ماں باپ اہل و عیال عزیز و رشتے دار، دوست احباب سب سے تعلقات ہیں بلکہ ہر اس انسان کے ساتھ اس کا تعلق ہے جس سے وہ محلے، وطن، قومیت، جنسیت یا اور کسی نوع کا تعلق رکھتا ہے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر حیوانات تک سے اس کے تعلقات ہیں اور ان تعلقات کے سبب اس پر کچھ فرائض عائد ہیں۔ دنیا کی ساری خوشیاں، خوش حالی، امن و امان اسی اخلاق کی بدولت ہے۔ اسی دولت کی کمی کو حکومت و جماعت اپنی طاقت اور قوت کے قانون سے پورا کرتی ہے۔ اگر انسانی جماعتیں اپنے فرائض از خود انجام دے لیں تو پھر حکومت کے جبری قوانین کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اسی لئے بہترین مذہب وہ ہے جس کا اخلاقی دباؤ اپنے ماننے والوں پر اتنا ہو کہ وہ ان کے قدموں کو سیدھا رکھ سکے، بہکنے نہ دے۔ (سیرت النبیؐ جلد ششم)

حضور نبی اکرمؐ کی بعثت، تکمیلی حیثیت رکھتی ہے۔ چناںچہ آپؐ نے فرمایا ’’میں حسن اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں۔‘‘ (موطا حسن اخلاق، مسند احمد، بیہقی) اور ابن سعد میں ان الفاظ میں آیا ہے کہ ’’میں تو اسی لیے بھیجا گیا کہ اخلاق حسنہ کی تکمیل کروں۔‘‘

حصول اخلاق کے طریقے

انسان کی شخصیت کا نکھار اچھے اخلاق میں مضمر ہے۔ اچھے اخلاق کی بدولت انسان نہ صرف اس دنیا بلکہ مرنے کے بعد بھی اعلیٰ مقام پر فائز ہونے کی سعادت سے بہرہ مند ہوگا۔ ابن مسکویہ نے اچھے اخلاق کو اپنانے کی نہ صرف تلقین کی ہے بلکہ نفس کی تہذیب و تربیت کے لئے کچھ ایسے نکات پیش کئے ہیں جن پر عمل کرکے انسان اپنے اخلاق سنوار سکے۔ یہ طریقے اور نکات درج ذیل ہیں:

تمام افعال و اعمال میں خیر کو شر پر، عقائد میں حق کو باطل پر اور اقوال میں صدق کو کذب پر ہمیشہ فوقیت دینی چاہئے۔

دائمی جہاد بالنفس کرتے رہنا یعنی انسان نفس کی خواہشات کے خلاف ہمیشہ برسرپیکار رہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کو مقدم و فائق رکھے۔

التمسک بالشريعة، ولذوم وظائفها: شریعت پر عمل کرنا اور ان تمام اعمال کو لازم پکڑنا جو کہ شریعت کے وظائف میں شامل ہیں یعنی جن باتوں کا حکم دیا ہے ان کو کرنا اور جن سے منع فرمایا ہے ان سے رک جانا۔

تمام جرائم کی وعیدوں کو یاد رکھنا اور تمام گناہوں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے نیز بندہ اور اللہ کے درمیان جو تعلق ہے وہ ہمیشہ ذہن نشین رہے۔

لوگوں سے امیدیں نہ لگانا اور ان سے تکثیر اختلاط سے بچے۔ یعنی لوگوں کے ساتھ بے تکلف ہونے سے احتراز کرنا تاکہ ان پر اعتماد کرنے کی نوبت نہ آئے۔

الصمت فی اوقات حرکات النفس للکلام، حتی يستشار فيه العقل: جب نفس کثرت کلام کی طرف مائل ہو تو نفس کو کثرت کلام سے روکنا اور عقل سے بھی مشورہ کرنا۔

اپنے حال کی حفاظت کرنا نیز لوگوں سے اختلاط کی حالت و کیفیت میں فساد اور گناہوں میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔

الاقدام علی کل ماکان صوابا: ہر نیک کام کی پیش قدمی کرنی چاہئے۔یعنی اچھے اور پسندیدہ کاموں میں دلچسپی لینا اور ان کے لئے اقدام کرنا۔

صرف ان چیزوں کا شوق ہونا چاہئے جو کہ آخرت کے اعتبار سے اہمیت کی حامل ہیں اور ان چیزوں سے اجتناب کرنا چاہئے جو کہ لا یعنی اور فضول ہیں۔ یعنی ادنی مشاغل کے مقابلے میں اعلیٰ ذہنی اور اخلاقی مشاغل میں اپنے آپ کو مشغول رکھنا۔

موت کا ڈر دل سے نکال دینا اور فقر کے خوف کو بھی دل میں جگہ نہ دینا اور جتنا کام انسان کرسکے اتنا کرتا رہے اور کثرت کلام چھوڑ دینا۔

غناء اور فقر دونوں صورتوں میں اللہ پر بھروسہ رکھنا۔ نیک بختی اور بدبختی، شائستگی اور حقارت دونوں قسم کے سلوک کا اپنے آپ کو خوگر بنانا۔

مرض کو صحت کے وقت یاد کرنا اور غم کو خوشی کے اوقات میں، رضا کو غضب کے وقت یاد کرنا چاہئے تاکہ طغی اور بغاوت کم ہو۔ اللہ رب العزت کی رضا پر راضی رہنا چاہئے اور اس سے امید رکھنی چاہئے۔ یعنی صحت کی حالت میں بیماری کے ایام، غصے میں خوشی و مسرت کے لمحات کو یاد کرنا تاکہ کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی کرنے کی نوبت نہ آئے۔

اللہ رب العزت پر توکل اور تمام معاملات اس ذات کی طرف لوٹانا۔ یعنی خدا پر بھروسہ رکھنا اور امید کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑنا۔

(مير ولي الدين، تاريخ فلاسفة الاسلام، ص304)

اگر امام ابن مسکویہ کے ان تربیتی نکات کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات بہت واضح ہوجائے گی کہ انہوں نے اس میں دین کی تعلیمات کو سمونے کی بھرپور کوشش کی اور اس میں کامیاب بھی رہے۔ عملی طور پر انسان کو اخلاقیات کے حوالے سے جن چیزوں کو سنوارنے کی ضرورت ہوتی ہے امام ابن مسکویہ نے انہیں بیان کیا۔

خلاصہ کلام

انسان کے اخلاق سے ہی اس کی شخصیت کا پتہ چلتا ہے۔ اس کا اٹھنا، بیٹھنا، بول چال، پہننا اوڑھنا ، کھانا پینا اس کے اخلاق و تہذیب کی ترجمانی کرتا ہے اور معاشرے میں وہ ایک کامیاب انسان کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اس کا رہن سہن، میل ملاپ ایک اچھے انسان ہونے کی غمازی کرتا ہے اور معاشرہ اس پر گواہ بن جاتا ہے۔ اپنے اچھے اخلاق کی بنا پر وہ نہ صرف دنیا بلکہ آخرت میں بھی کامیابی کی ضمانت حاصل کرلیتا ہے۔

آج ہم اپنے بچوں کی کماحقہ تربیت کے تقاضوں سے ناآشنا ہیں۔ ہمارے علم میں یہ بھی نہیں کہ ہم اخلاق کو کس طرح اپنی فطرت ثانیہ بنائیں۔بلاشبہ انسانی طبیعت و مزاج میں فرق ہوتا ہے مگر ہر طبیعت و مزاج کے مطابق اس کا اخلاقی علاج بھی باقاعدہ ائمہ کرام نے تجویز کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان اخلاقی تعلیمات کو مادیت پر غالب رکھیں اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر انسانیت و اسلام کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے آپ کو ایک اچھے ، باعمل، تربیت یافتہ اور بااخلاق انسان اور مسلمان کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کریں۔

اچھے اخلاق جہاں قدرتی طور پر انسان میں موجود ہوتے ہیں وہیں مشقت و ریاضت سے بھی ان کا حصول ممکن ہے چونکہ اخلاق سے ہی انسانوں کی پہچان ممکن ہے اور ایک انسان میں بنیادی قدر اچھے اخلاق کا پایا جانا ہے جس سے اس کی اپنی ذات، ملک و قوم کی شناخت ہوتی ہے۔اس کا آغاز بچپن سے ہوتا ہے۔ اس لئے کہ انسانی شعور کے ابتدائی مراحل کی بہت زیادہ اہمیت ہے کیونکہ یہ وہ دور ہے جب بچے میں سیکھنے کی استعداد زیادہ ہوتی ہے اور چھوٹی عمر میں وہ جو سیکھے گا اس کی ذات اور عادت کا حصہ بن جائے گا۔ اس لئے ابتدائی سال بچے کی زندگی کے بہت اہم تصور کئے جاتے ہیں۔ اگر ان کی پرورش صحیح اصولوں پر کی جائے تو ان میں محاسن اخلاق پیدا کرنا مشکل امر نہیں۔انسانی شخصیت کو نکھارنے اور سود مند بنانے کے لئے ان ائمہ کی تعلیمات پر کاربندہونا ضروری ہے تاکہ انسان اپنے اور دوسروں کے لئے مفید ثابت ہو۔

0 Comments

Leave a Comment

Login

Welcome! Login in to your account

Remember me Lost your password?

Don't have account. Register

Lost Password

Register

%d bloggers like this: